تعارف صفحہ
سنیے کو کهانی توقف
کریں مدد حفظ تراثها En Fr العَرَبِيَّة‎‎ اُردُو‎ فارسی
تصدیق
Scroll down
بند کریں

کریں مدد

His Royal HighnessPrince El Hassan bin Talal

General Sir John Nicholas Reynolds Houghton

GCB, CBE, ADC Gen –
Chief of the Defence Staff, 2013-2016

Stuart AndrewMP

Chair, All-Party Parliamentary Group on Islamophobia

Imam Asim HafizOBE

Islamic Religious Advisor to the Chief of the Defence Staff and Service Chiefs

Commander Mak Chishty

Hate Crime Lead,
Metropolitan Police Service

مسامانوں کی دوستانا عآلمی شرآکت پر جآمع تصنیف

سنیے کو کهانی توقف

تاریخ: یہ تو ماضی ہے، کس کو فرق پڑتا ہے؟

ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے میرا یہ ایمان ہے کہ ماضی، حال اور مستقبل صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ لیکن میں یہ بھی جانتا ہوں کہ اللہ کی رضا اور بنی نوع انسان کے اعمال میں تضاد ہے۔ قرآن صرف ایک ماضی کی کتاب نہیں ہے۔ بلکہ یہ ماضی، حال اور مستقبل کو ساتھ لیکر چلتی ہے۔ اس میں ہمیں بار بار بتایا گیا ہے کہ ہم اپنے حال پر محنت کریں اور ماضی کی قوموں سے سبق حاصل کریں۔ اسلۓ تاریخ کو سمجھنا اور جاننا بہت ضروری ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم اپنی تاریخ کو آدھا ادھورا جانتے ہیں۔ 

بھلاۓ گۓ ہیروز ۱۴-۱۹ فاؤنڈیشن نے پہلی جنگ عظیم میں ہونے والی نامعلوم ادھوری کہانیوں کو انگریزی، فرانسیسی، اردو، عربی اور فارسی زبانوں میں ترجمعہ کیا ہے۔ ان کہانیوں میں تصویریں، جنگ کی رپورٹیں، ذاتی ڈائریاں اور وہ خطوط شامل ہیں جو کبھی اپنے گھروں تک نہ پہنچ سکے۔

اس فاؤنڈیشن کی محنت سے ہم یے جان سکے ہیں ۲۰ لاکھ سے زاٸد مسلمانوں نے ان جنگوں میں رضاکارانہ طور پر کام کیا۔ وہ جنگیں جو ان کے اپنے ذاتی مفاد میں بھی نہیں تھی۔

ہمارے لۓ یہ آج کیوں ضروری ہے اور ہم اس سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟

آج کل غیر ملکیوں سے حقارت اور مذہبی انتہا پسندی اپنے عروج پر ہے۔ یہ انتہا پسند لوگوں کو یہ کہھ کر گمراہ کر رہے ہیں کہ غیر مسلم اور مسلمان الگ الگ ہیں۔ ہمیں ان کے ساتھ اکٹھے نہیں رہنا چاہیے۔ ہماری آپس میں ہم آہنگی نہیں ہے اور یہ تہذیبوں کا تصادم ہے۔ جنگ کے دوران ملی ذاتی ڈاٸریوں سے ایسے بہت سے دل پگھلا دینے والے واقعات ملے ہیں۔ جن سے پتہ چلتا ہے کہ انگریزی فوجیوں نے بہت سے موقعوں پر اپنے مسلمان جنگی ساتھیوں سے دیسی طریقہ علاج سیکھے اور ان سے فاٸدہ حاصل کیا۔ بہت سے موقعوں پر مسلمان، عیسائی اور یہودی مل کر شانہ بشانہ جنگ میں لڑے۔ خندقوں اور سرنگوں کی مشکل زندگی گزارنے کے باوجود انھوں نے ایک دوسرے سے انکی تہذیبوں، موسیقی، زبانوں اور مذہبی امور کو سیکھا تا کہ جنگی حالات میں فوجیوں کو با عزت انکے مذہب کے مطابق دفنایا جائےاور روز مرہ کے امور بخوبی انجام دیۓ جا سکیں۔ میں یہ سوچتا ہوں کہ اگر جنگی حالات میں اتنی سختیاں برداشت کرنے کے باوجود فوجی ایک دوسرے کو اتنے پیار اور احترام سے اپنا سکتے ہیں تو ہمیں ایسا کرنے سے کون روک رھا ہے؟

یورپ میں بہت سے لوگوں کا خیال ہے اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ "مسلمانوں نے انکے لیۓکبھی کچھ نہیں کیا؟" لیکن سچ تو یہ ہے کہ لاکھوں مسلمان سپاہیوں نے اپنا گھر بار چھوڑ کر اپنی جانوں کی قربانیاں دیں جن سے ہم سب اب تک انجان تھے۔ اس پراجیکٹ کی وجہ سے ہمیں انکی قربانیوں اور خدمات علم ھوگا۔

اگر آپ اپنی تاریخ نہیں جانتے تو آپ کچھ بھی نہیں جانتے۔ آپکا وجود اس پتے کی طرح ہے جو یہ نہیں جانتا کہ وہ بھی درخت کا حصہ ہے۔

مائیکل کِرکٹن کے مطابق

یہ میرے لۓ ضروری کیوں ہے؟

میں ایک مسلمان، برطانوی اور یورپی باشندہ ہوں۔ میں برطانیہ میں پلا بڑھا ہوں۔ میری ماں پاکستانی اور باپ ایک ہندوستانی ہے۔ میں جاننا چاہتا ہوں کہ ماضی میں ہر طبقے کے مسلمانوں نے ہر شعبے میں کیا خدمات ادا کیں؟ یہ میں اس لۓ جاننا چاہتا ہوں کہ بہت سے لوگوں کو اس بات سے فرق نہیں پڑتا کہ میری پہچان کیا ہے؟میری قومیت کیا ہے؟ ان کے لۓ میں صرف ایک مسلمان ہوں۔ میں ان جنگوں میں مسلمانوں کہ تجربات جاننا چاہتا ہوں۔ میں جاننا چاہتا ہوں کہ کیسے انھوں نے اجنبی جگہ، نئ زبان، نۓ لوگ اور نۓ ماحول میں گزارہ کیا اور کن مشکلات کا سامنا کیا۔ سائنس میں مسلمانوں کی خدمات سے ہم پہلے ہی واقف ہیں لیکن جنگ کے دوران ان کی خدمات کا کیا؟

فرانس، بیلجیم اور کینیڈا کے فوجی افسران کے مطابق وہ مسلمانوں کے جنگی قیدیوں جن میں جرمن جنگی قیدی بھی شامل تھے، سے ایسا برتاؤ کیا جس سے بہت سےلوگ متاثر اور حیران ھوے۔ ان کے مطابق یہ جانتے ہوۓ بھی کہ ان کے دشمنوں نے ان سے بہت برا سلوک کیا ہے۔ انھوں نے قیدیوں کی خوراک، آرام اور حفاظت کا پورا بندوبست کیا اور ان سے احترام سے پیش آۓ۔ جب مسلمان فوجیوں سے اس برتاؤ گی وجہ پوچھی گئ تو انھوں نے قرآن کریم اور حدیث کی روشنی میں وضاحت گی کہ ہمارے مذہب اسلام میں جنگی قیدیوں سے شفقت اور احترام سے پیش آنے کی تلقین کی گٸ ہے۔ سرکاری رپورٹوں کے مطابق یہ انگریز افسران کہ لۓ بہت حیرت انگیز بات تھی۔

ان رپورٹوں میں یہ بھی بتایا گیا کہ جنگ کے دوران جب ادویات ختم ہو گئ تو شمالی افریقہ کے مسلمان جو کہ جڑی بوٹی کی ادویات میں ماہر تھے انھوں نے مریضوں کی جان بچائ۔

ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے یہ سب میں اپنے لۓ، اپنے دوستوں کے لے اور اپنے ہم وطنوں کے لۓ جاننا چاہتا ہوں۔ میں یہ چاہتا ہوں کہ یہ علم مستقبل میں آنے والے ہر فرد تک پہنچے تا کہ ہر اس انسان کو جو انتہا پسند ہے اور ملک میں مذہبی فرقہ واریت اور نفرت پھیلا رہا ہے، اس کو منہ توڑ جواب دیا جاسکے۔ میں چاہتا ہوں کہ آنے والی نسلیں اچھے انسان کے روپ میں ابھریں۔

ہمارا مستقبل اپنی تاریخ جاننے میں ہے۔ بھلاۓ گۓ ہیروز ۱۴-۱۹ فاؤنڈیشن مسلمانوں کے ورثے پر ایک جامعہ اور محفوظ دستاویزات کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ میں پورے دل سے اس کا ساتھ دیتا ہوں اور باقی سب سے بھی اپیل کرتا ہوں۔ 

ھایان ایاز بھابھا۔
ایگزیکٹو ڈاہریکٹر۔